مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور آسٹریا کی وزیر خارجہ بیاتے مائنل رائزنگر کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دونوں ممالک کے تعلقات کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور عالمی معاملات پر بھی بات چیت کی گئی۔
سید عباس عراقچی نے خطے کی حالیہ پیش رفت پر بریفنگ دیتے ہوئے ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی طریقہ کار سے متعلق جاری مذاکرات کا ذکر کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ کشیدگی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کا نتیجہ ہے، جبکہ ایران نے سفارتی عمل میں نیک نیتی کا مظاہرہ کیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے غزہ اور لبنان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بعض یورپی ممالک اور یورپی یونین کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے مسائل کے حل کے لیے یورپی ممالک کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
عراقچی نے ایران کے خلاف یورپی یونین کے بعض مؤقف اور ایران مخالف گروہوں کی مبینہ حمایت کی بھی مذمت کی۔
دوسری جانب آسٹریا کی وزیر خارجہ نے خطے میں استحکام اور امن کی بحالی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ مسائل کا حل سفارتی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور معمول کے حالات کی بحالی کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
آپ کا تبصرہ